ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی کہانی
-
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی کہانی پیچیدہ اور المیہ ہے، جس میں قانونی، انسانی اور سیاسی پہلو شامل ہیں۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی ایک پاکستانی نیورو سائنسدان ہیں جو امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنے ملک واپس آئیں۔
پس منظر
ڈاکٹر عافیہ صدیقی 2 مارچ 1972 کو کراچی، پاکستان میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کراچی سے حاصل کی اور بعد میں اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ چلی گئیں۔ وہاں انہوں نے ایم آئی ٹی (Massachusetts Institute of Technology) سے گریجویشن کیا اور پھر برینڈیز یونیورسٹی سے نیورو سائنس میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
گرفتاری اور مقدمہ
2003 میں، ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا نام اس وقت منظر عام پر آیا جب وہ اور ان کے تین بچے کراچی سے لاپتہ ہو گئے۔ ان کی گمشدگی کے بعد یہ افواہیں گردش کرنے لگیں کہ انہیں امریکی ایجنسیوں نے گرفتار کر لیا ہے اور افغانستان یا کسی اور خفیہ مقام پر رکھا گیا ہے۔
2008 میں، انہیں افغانستان کے شہر غزنی میں گرفتار کیا گیا، جہاں امریکی فوجیوں کا دعویٰ تھا کہ عافیہ نے ان پر حملہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس الزام میں انہیں امریکہ منتقل کیا گیا، جہاں ان پر امریکی فوجیوں اور ایف بی آئی ایجنٹس پر حملہ کرنے کا مقدمہ چلایا گیا۔
سزا اور قید
2010 میں، نیو یارک کی عدالت نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو 86 سال قید کی سزا سنائی۔ ان پر یہ الزام تھا کہ انہوں نے امریکی فوجیوں پر گولی چلانے کی کوشش کی، حالانکہ کوئی بھی امریکی اہلکار زخمی نہیں ہوا تھا۔ اس مقدمے اور سزا نے بین الاقوامی سطح پر تنازع کھڑا کر دیا، اور پاکستان سمیت مختلف ممالک میں انسانی حقوق کی تنظیموں اور عوام نے اس فیصلے کو غیر منصفانہ قرار دیا۔
تنازع اور ردعمل
پاکستان میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے کئی بار مظاہرے ہوئے ہیں اور مختلف حکومتوں نے بھی ان کی واپسی کے لیے کوششیں کی ہیں، لیکن تاحال وہ امریکی جیل میں قید ہیں۔ ان کے مقدمے کو انسانی حقوق کے کارکنان نے بہت زیادہ تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اسے انصاف کے نظام میں خامیوں کی مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
موجودہ صورتحال
ڈاکٹر عافیہ صدیقی اس وقت امریکہ کے شہر فورٹ ورتھ، ٹیکساس کی ایک جیل میں قید ہیں۔ ان کی صحت اور حالات کے حوالے سے مختلف رپورٹیں سامنے آئی ہیں، جن میں ان کی زندگی کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا کیس بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور انصاف کے نظام کے حوالے سے کئی سوالات اٹھاتا ہے۔ ان کی رہائی کے لیے کوششیں اور آوازیں بلند ہوتی رہتی ہیں، لیکن اب تک ان کی قید کا خاتمہ نہیں ہو سکا۔
-
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی دو شادیاں ہوئیں، جن کا ان کی زندگی پر گہرا اثر رہا۔
پہلی شادی
عافیہ صدیقی کی پہلی شادی 1995 میں کراچی میں ڈاکٹر امجد محمد خان سے ہوئی، جو ایک پاکستانی نژاد امریکی معالج تھے۔ یہ شادی ایک روایتی انداز میں خاندانوں کی مرضی سے انجام پائی۔ شادی کے بعد یہ جوڑا امریکہ منتقل ہو گیا، جہاں عافیہ نے اپنی تعلیم مکمل کی اور تین بچوں کی ماں بنیں۔
ازدواجی زندگی کے مسائل
عافیہ صدیقی اور امجد خان کی ازدواجی زندگی میں کچھ عرصے بعد مسائل پیدا ہونا شروع ہو گئے۔ ان کے درمیان اختلافات اور کشیدگی کی خبریں میڈیا میں بھی آتی رہیں۔ 2002 میں دونوں کے درمیان طلاق ہو گئی، اور اس کے بعد عافیہ نے اپنے بچوں کی پرورش خود کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس دوران ان کے بچوں کے ساتھ تعلقات اور زندگی کے حوالے سے مختلف افواہیں گردش کرتی رہیں۔
دوسری شادی
عافیہ صدیقی نے 2003 میں دوسری شادی کی۔ یہ شادی خالد شیخ محمد کے بھتیجے عمار البلوچی سے ہوئی، جو بعد میں امریکی حکام کے ہاتھوں گرفتار ہو گئے۔ عمار البلوچی کو 9/11 حملوں کے سلسلے میں اہم کردار ادا کرنے کا الزام ہے۔ اس شادی کے بارے میں بہت کم معلومات دستیاب ہیں، اور یہ شادی بھی جلد ہی ناکام ہو گئی۔
شادیوں کا اثر
عافیہ صدیقی کی شادیوں اور ان کے بعد کی زندگی نے ان کی شخصیت، ان کی جدوجہد، اور ان کے قانونی معاملات پر گہرا اثر ڈالا۔ ان کی زندگی کی ان تفصیلات کو سمجھنے سے ان کے کیس کی پیچیدگی اور ان کی ذاتی مشکلات کا اندازہ ہوتا ہے۔
ان کی شادیوں اور ان کے بعد کے واقعات نے ان کی زندگی میں مزید مشکلات اور مسائل پیدا کیے، جنہیں انہوں نے تنہا برداشت کیا۔ یہ واقعات ان کی کہانی کا اہم حصہ ہیں اور ان کے گرد موجود تنازعات اور چیلنجز کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔