مرنے بعد اكريته چلاكه اللّٰه يإك كا وجوو نہیں ہے؟
-
آپ کا سوال گہری روحانی نوعیت کا ہے۔ اس کا جواب اسلامی عقائد کے تناظر میں یوں ہے:
مرنے کے بعد آخرت میں اللہ کے وجود پر شک یا سوال کرنے کا کوئی جواز نہیں رہتا، کیونکہ قرآنِ پاک کے مطابق، انسان مرنے کے بعد حقائق کو اپنی آنکھوں سے دیکھے گا۔ دنیا کی زندگی آزمائش کے لیے ہے، اور آخرت میں ہر چیز واضح ہو جائے گی۔
قرآن میں ذکر:
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“لَقَدْ كُنتَ فِي غَفْلَةٍ مِّنْ هَٰذَا فَكَشَفْنَا عَنكَ غِطَاءَكَ فَبَصَرُكَ ٱلْيَوْمَ حَدِيدٌ”
(سورۃ ق: 22)
ترجمہ: “تم اس سے غفلت میں تھے، تو آج ہم نے تمہارے اوپر سے پردہ ہٹا دیا، اور آج تمہاری نظر بہت تیز ہے۔”آخرت میں ہر حقیقت واضح ہوگی:
دنیا میں اللہ کے وجود پر یقین ایمان بالغیب (Unseen Belief) کے تحت ہے، لیکن آخرت میں ہر چیز آشکار ہوگی۔ وہاں انکار کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہے گی۔ جو لوگ دنیا میں شک کرتے ہیں، آخرت میں انہیں حقیقت نظر آ جائے گی، مگر اس وقت توبہ یا اصلاح ممکن نہیں ہوگی۔
خلاصہ:
مرنے کے بعد، انسان حقائق کو جان لے گا اور اللہ کی موجودگی میں کوئی شک باقی نہیں رہے گا۔ دنیا میں ہمیں ایمان، عملِ صالح، اور اللہ کے احکامات پر عمل کرنے کا موقع دیا گیا ہے، تاکہ آخرت کی کامیابی حاصل ہو سکے۔
مرنے کے بعد اگر پتہ چلے کہ اللہ کا وجود ہی نہیں ہے؟