Skip to content
  • Categories
  • Recent
  • Tags
  • Popular
  • Pro Blog
  • Users
  • Groups
  • Unsolved
  • Solved
Collapse
Secnto AI
  1. Secnto AI
  2. Categories
  3. Network Troubleshooting
  4. 5g auction results in Pakistan
5g auction results in Pakistan
cyberianC
‏80 میگا ہرٹز سپیکٹرم کی 507 ملین ڈالر میں نیلامی: کیا پاکستان میں ’سست انٹرنیٹ‘ کا حل فائیو جی ٹیکنالوجی میں چھپا ہے؟ ‏20 جنوری 2026اپ ڈیٹ کی گئی ایک گھنٹہ قبل مطالعے کا وقت: 14 منٹ ‏’سوری میرا انٹرنیٹ نہیں چل رہا تھا اس لیے آپ کا پیغام دیر سے ملا۔‘ ‏’میڈم آج کارڈ نہیں چلے گا انٹرنیٹ بند ہے، اس لیے صرف کیش چلے گا۔‘ ‏پاکستان میں یہ جملے ہمیں اکثر سننے کو ملتے ہیں اور ہم میں اکثر افراد کو بعض اوقات ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب موبائل فون جیسی سہولت کسی مشکل صورتحال میں سگنل نہ آنے یا انٹرنیٹ نہ چلنے کے سبب ہمارے کام نہیں آ پاتی۔ ‏تاہم اب حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں فائیو جی ٹیکنالوجی کے اجرا کے لیے سپیکٹرم کی کامیاب نیلامی کے بعد یہ مسئلہ بڑی حد تک حل ہو جائے گا۔ ‏پاکستان میں ٹیلی کمیونیکشن کے نگراں ادارے پی ٹی اے نے ملک میں فائیو جی ٹیکنالوجی کے اجرا کے لیے 480 میگاہرٹز سپیکٹرم کی نیلامی کا عمل منگل کو مکمل کیا ہے۔ ‏یہ سپیکٹرم 507 ملین ڈالر میں فروخت ہوئے ہیں اور حکومت کا کہنا ہے کہ رواں سال کے اختتام تک ملک کے بڑے شہروں میں فائیو جی کی سہولت دستیاب ہو گی۔ ‏سپیکٹرم کی نیلامی کے لیے تقریب اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔ اس نیلامی میں پاکستان میں ٹیلی کام سروسز فراہم کرنے والی تینوں کمپنیوں زونگ، جاز اور یو فون نے حصہ لیا۔ ‏نیلامی مکمل ہونے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے پی ٹی اے کے چیئرمین میجر جنرل ریٹائرڈ حفیظ الرحمان نے بتایا کہ فائیو جی سپیکٹرم کی نیلامی تین ادوار میں مکمل ہوئی اور اس دوران فائیو جی کے لیے دستیاب 597 میں سے 480 میگاہرٹز سپیکٹرم فروخت ہوا ہے۔ ‏پی ٹی اے کے چیئرمین کے مطابق بولی کے دوارن جاز نے مجموعی طور پر 190 میگاہرٹز، یو فون نے 180 میگا ہرٹز اور زونگ نے 110 میگا ہرٹز سپیکٹرم خریدا ہے۔ ‏پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی کا کہنا ہے کہ 700 میگا ہرٹز کے تین لائسنس، 2300 میگا ہرٹز کے تمام لائسنس، 2600 میگا ہرٹز کے 19 لائسنس اور3500 میگا ہرٹز کے 28 لائسنس نیلام کیے گئے ہیں۔ یہ تمام لائسنس ٹیلی کام کمپنیوں کو 15 سال کے لیے دیے جائیں گے۔ ‏سپیکٹرم خریدنے والی کمپنی کو شروع میں کوئی ادائیگی نہیں کرنی پڑے گی لیکن انھیں پہلے سال کے اختتام پر 50 فیصد رقم ادا کرنی ہو گی جبکہ باقی 50 فیصد رقم پانچ اقساط میں ادا کی جائے گی۔ ‏میجر جنرل ریٹائرڈ حفیظ الرحمان نے کہا کہ سپیکٹرم کی فروخت سے صارفین کو بہتر انٹرنیٹ کی سہولیات کی فراہمی ممکن ہو گی۔ ‏تقریب میں شریک وفافی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ پاکستان اب اُن ممالک کی فہرست میں شامل ہو جائے گا کہ جہاں فائیو ٹیکنالوجی موجود ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس مرحلے کو مکمل کرنے میں انڈسٹری اور ٹیلی کام کمپنیوں نے اہم کرداد اد کیا اور رواں سال کے آخر تک اسلام آباد، لاہور، پشاور، کراچی اور کوئٹہ میں فائیو جی دستیاب ہو گا۔ ‏انھوں نے کہا کہ فائیو جی کے لائسنس کے اجرا کا مقصد زیادہ آمدن کمانا نہیں تھا بلکہ اس کا مقصد ٹیلی کام آپریٹرز کے نیٹ ورک کی توسیع اور انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانا ہے تاکہ صارفین کے لیے بہتر اور معیاری ڈیجیٹل خدمات فراہم کی جا سکیں۔ ‏اس موقع پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ ملک کی معاشی ترقی اور ڈیجیٹل پاکستان کے حصول کے لیے فائیو جی بہت ضروری ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ ٹیلی کیمونیکیشن نظام کو جدید اور مضبوط بنائیں تاکہ ڈیجٹیل پاکستان کا حصول ممکن ہو سکے۔ ‏پاکستان ٹیلی کام ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے نیلامی کے لیے جاری انفارمیشن میمورینڈم کے مطابق ملک میں سنہ 2035 تک تین مختلف مرحلوں میں فائیو جی لانچ کیا جائے گا۔ نیلامی کی شرائط کے مطابق پہلے مرحلے میں ٹیلی کام کمپنیوں پر لازم ہو گا کہ وہ سنہ 2028 تک ملک کے بڑے شہروں میں فائیو جی لانچ کریں اور فور جی کی سپیڈ کو بھی بڑھا کر کم سے کم 20 ایم بی تک کیا جائے۔ ‏ماہرین کا کہنا ہے کہ سپیکٹرم لائسنس کی نیلامی سے موبائل فون سروسز فراہم کرنے والی سیلولر کمپنیاں اور انٹرنیٹ سروسز فراہم کرنے والی زیادہ برینڈوتھ کے ذریعے تیز سروس فراہم کریں گے۔ ‏پاکستان میں ماضی میں انٹرنیٹ اور موبائل فون کے سگنلز سکیورٹی یا دیگر وجوہات کو جواز بنا کر بند کیے جاتے رہے ہیں اور اکثر اوقات میں ملک میں موجود انٹرنیٹ کی سپیڈ اتنی سست ہو جاتی ہے کہ لگتا ہے انٹرنیٹ لگ بھگ بند ہو گیا ہے۔ ‏سپیکٹرم کا لائسنس، برینڈورتھ، فائیو جی سروسز، یہ سب کافی ٹیکنکل معاملات ہیں اور عمومًا عوام کی اولین ترجیح تیز رفتار اور بلا تعطل انٹرنیٹ ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس کو سمجھے بغیر سست رفتار انٹرنیٹ کا مسئلہ سمجھ نہیں آئے گا۔ ‏چلیں اصلاحات کو سمجھتے ہوئے یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ کیا تیزرفتار انٹرنیٹ کا خواب پورا کرنے کے لیے صرف سپیکٹرم لائسنس ہی جادو کی چھڑی ہے؟ یا پھر کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ حکومت موٹر وے بنا رہی ہے لیکن اُس پر چلانے کے لیے عوام کے پاس گاڑی ہی نہ ہو۔ ‏پاکستان میں اِس وقت انٹرنیٹ سست کیوں ہے اور یہ تیز کیسے ہو گا؟ ‏پاکستان میں انٹرنیٹ چاہے آپ موبائل پر استعمال کریں یا گھر پر کیبل انٹرنیٹ کے ذریعے، اُس کے لیے یہ کمپنیاں 274 میگا ہیٹز سپیکٹرم استعمال کرتی ہیں یعنی انٹرنیٹ اور ٹیلی کام کی ساری ٹریفک اسی راستے سے گزر کر جائے گی۔ ‏سپیکٹرم سے مراد فضا میں موجود وہ راستے ہیں جو کمپنیوں کو استعمال کرنے کی اجازت ہے۔ جوں جوں پاکستان میں انٹرنیٹ کا استعمال بڑھا ہے صارفین کی تعداد بڑھنے سے اس راستے یعنی سپیکٹرم پر رش بڑھ گیا ہے اور ہمیں آئے روز سست انٹرنیٹ، سگنل پورے نہ ملنے جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ‏ٹیلی کام انڈسٹری سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں جو سپیکٹرم استعمال ہو رہا ہے وہ خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں بہت کم ہے یعنی بنگلہ دیش کی حکومت نے بھی 600 سے زیادہ سپیکٹرم استعمال کرنے کی اجازت دی ہوئی ہے۔ ‏ٹیلی کام شعبے کے ماہر پرویز افتخار کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ٹیلی کام کے شعبے کے لیے دستیاب سپیکٹرم خطے کے دوسرے ممالک کے مقابلے میں آدھا ہے اور یہی وجہ ہے کہ انٹرنیٹ کی ڈیٹا سپیڈ کم ہو جاتی ہے اور نیٹ ورک کے جام ہونے جیسے شکایات سامنے آتی ہیں۔ ‏بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ انٹرنیشنل ٹیلی کیمونیکیشن یونین کے مطابق براڈ بینڈ انٹرنیٹ کے لیے 900 سے زائد میگا ہیڈز سپیکٹرم درکار ہوتا ہے لیکن پاکستان میں حکومت نے اس جانب توجہ نہیں دی۔ ‏پاکستان کی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزہ فاطمہ خواجہ نے فروری میں فائیو جی سپیکٹرم لائسنس کی نیلامی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان میں کام کرنے والی ٹیلی کام کمپنیاں اضافی سپیکٹرم خرید سکیں گی۔ ‏ماہرین کے خیال میں یہ ٹیلی کام انڈسٹری کے لیے حوصلہ بخش اقدام ہے کیونکہ اس سے ٹیلی کام کے شعبے کے پاس 700 میگا ہیڈز سپیکٹرم موجود ہو گا جس سے انٹرنیٹ کی سپیڈ، کالز کی کوالٹی اور بہتر ڈیٹا سروسز دستیاب ہو گی۔ ‏انڈسٹری سے وابستہ افراد سپیکٹرم بڑھنے کے اعلان پر خوش ضرور ہے لیکن اُن کے خیال میں اس سپیکٹرم کو فائیو جی کے اجرا کے ساتھ منسلک کرنا ضروری نہیں ہے۔ ‏ماہر ٹیلی کام سیکٹر اسلم حیات کا کہنا ہے کہ سپیکٹرم کے اجرا سے صارفین کو تیز رفتار انٹرنیٹ تو ملے گا لیکن اسے انٹرنیٹ کی سروسز کو بہتر کرنے کو فائیو جی ٹیکنالوجی سے منسلک نہیں کرنا چاہیے۔ ‏ڈیجیٹل پاکستان کا خواب، زمینی حقائق اور فائیو جی ٹیکنالوجی ‏اکستان میں دس سال قبل فور جی ٹیکنالوجی متعارف کروائی گئی تھی اور اس وقت ملک میں فور جی اور تھری جی ٹیکنالوجی دونوں موجود ہیں لیکن خطے کے دیگر ممالک کی طرح فائیو جی ٹیکنالوجی دستیاب نہیں ہے۔ ‏ملک میں ہونے والے حالیہ حکومتی ہاؤس ہولڈ سروے کے مطابق 70 فیصد گھرانوں کے پاس انٹرنیٹ کی سہولت ہے جبکہ ملک کی 57 فیصد افراد انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں۔ ‏وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزہ فاطمہ کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل پاکستان کے ویژن کو آگے بڑھاتے ہوئے پاکستان کی ٹیلی کام کمپنیاں ملک میں جلد فائیو جی ٹیکنالوجی متعارف کروائیں گی۔ انھوں نے کہا تھا کہ سپیکٹرم لائسنس کے بعد ملک میں فور جی انٹرنیٹ کی سروسز بھی بہتر ہوں گی۔ ‏لیکن ٹیلی کام انڈسٹری سے منسلک افراد کا کہنا ہے کہ پاکستان میں فائیو جی استعمال کرنے والے صارفین کی نہ صرف تعداد بہت کم ہے بلکہ بہت ہی کم افراد ایسے موبائل فون سیٹ یا انٹرنیٹ موڈیم خریدنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جس پر فائیو جی ٹیکنالوجی چل سکے۔ ‏ٹیلی کام سیکٹر کے ماہر اسلم حیات کا کہنا ہے کہ پاکستان مختلف وجوہات کے سبب خطے میں ٹیکنالوجی کے لحاظ سے پیچھے رہ گیا ہے اس لیے حکومت سپیکٹرم کے ساتھ فائیو جی بھی لانا چاہتی ہے لیکن اُن کا کہنا ہے کہ فائیو جی ٹیکنالوجی کو لانے سے پہلے اُس کے لیے ساز گار ماحول بنایا ضروری ہے۔ ‏بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اسلم حیات کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ٹیلی کام کمپمنیاں سخت ریگولیشن اور انتہائی سخت مقابلے میں کام کر رہی ہیں ٹیلی کام سیکٹر پر ٹیکسز اور پھر روپے کی قدر میں کمی سے اُن کے اخراجات بڑھ گئے ہیں ایسے میں فائیو جی کی شرط لاگو کرنے سے ٹیلی کام کمپنیوں پر مزید بوجھ بڑھے گا۔ ‏پاکستان موبائل آپریٹرز ایڈوائزری کونسل کے ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں صرف دو فیصد صارفین کے پاس ایسے آئی فون، سام سنگ یا مہنگے چینی کمپنیوں کے بنے موبائل فونز ہیں جن پر فائیو جی ٹیکنالوجی چل سکتی ہے۔ تاہم بی بی سی اس اندازے کی تصدیق نہیں کر سکتا ہے۔ ‏ملکی سطح پر بننے والے موبائل فونز، جو زیادہ تر افراد استعمال کرتے ہیں، میں سے 60 فیصد فونز پر صرف ٹو جی ہی چلتا ہے۔ ایسے میں مقامی سطح پر بننے والے فونز اب کم قیمت فور جی فونز بنانے پر توجہ دے رہے ہیں۔ ماہرین کا دعویٰ ہے کہ اگر فائیو جی ٹیکنالوجی آتی ہے تو یہ صرف محدود طبقے کے لیے ہی قابلِ استعمال ہو گی۔ ‏انٹرنیٹ کمیونیکشن ٹیکنالوجی کے ماہر پرویز افتخار کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی اپ گریڈ کرنا ضروری ہے اور اگر حکومتی علامتی طور فائیو جی متعارف کروانا چاہتی ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ ‏لیکن وہ اس بات سے متفق ہیں کہ پاکستان میں فی الحال فائیو جی ٹیکنالوجی کی کھپت نہیں۔ ‏بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ فائیو جی کا زیادہ استعمال عام صارفین کے بجائے بڑے پیمانے پر اُن سیکٹر میں ہوتا ہے جہاں رییئل ٹائم پر ڈیٹا اکٹھا کیا جائے، جیسے ایگریکلچر فارم، کیٹل فارم جہاں سینسرز کے ذریعے ڈیٹا اکٹھا کیا جاتا ہے۔ اُن کے مطابق کلاوڈ یا ڈیٹا سینٹرز ابھی پاکستان میں کم ہیں لیکن مستقبل میں بڑھیں گے اس لیے فائیو جی ٹیکنالوجی کی اپ گریڈیشن ضروری ہے ‏حکومت کا فائیو جی کا اصرار اور کمپنیوں کی ہچکچاہٹ ‏حکومت نے ملک میں فائیو جی کے اجرا کے لیے پلان تو جاری کر دیا ہے لیکن سیلولر یا موبائل فون سروسز فراہم کرنے والی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ فائیو جی ٹیکنالوجی لانے کے لیے کمپنیوں کو اپنے انفرسٹرکچر کو اپ ڈیٹ کرنا پڑے گا جس کے لیے انھیں دوسرے ممالک سے مشینری منگوانی پڑی گی، اور دوسری جانب صارفین کی قوتِ خرید کم ہونے سے مارکیٹ میں اس کی ڈیمانڈ نہیں ہے۔ ‏اُن کا کہنا ہے کہ موبائل کمپنیوں کے صارفین کی اکثریت وہ ہے جو پری پیڈ پیکجز خریدتی ہے یعنی کمپنی کی آمدن کا زیادہ تر حصہ پوسٹ پیڈ یا ماہانہ بلنگ کے بجائے پری پیڈ پر منحصر ہے۔ ایسے میں فائیو جی کے ممکنہ صارفین کی تعداد اور کم ہے۔ ‏پاکستان کا شمار اُن ممالک میں ہوتا ہے جہاں موبائل فون استعمال کرنے والے افراد کی تعداد 19 کروڑ 25 لاکھ ہے۔ پاکستان ٹیلی کیمونیکشن اتھارٹی کے اعدادوشمار کے مطابق 14 کروڑ 98 لاکھ افراد کے پاس براڈ بینڈ انٹرنیٹ کی سہولت موجود ہے لیکن بڑی تعداد میں صارفین ہونے کے باوجود بھی ٹیلی کام انڈسٹری کا زیادہ تر انحصار کم فون استعمال کرنے والے پری پیڈ صارفین پر مشتمل ہے۔ ‏یہی سبب ہے کہ ٹیلی کام انڈسٹری کی فی صارف اوسط آمدن یا ریونیو ایک ڈالر ہے جو خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کم ہے۔ ‏ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیلی کام ڈی ریگولیٹڈ سیکٹر ہے اور حکومت کے بجائے اس فائیو جی لانے یا نہ لانے کا فیصلہ ٹیلی کام کمپنیوں کو ہونا چاہیے۔ ‏ماہر افتخار پرویز بھی اس بات سے متفق ہیں کہ پاکستان میں انٹرنیٹ یا موبائل فون سروسز دیگر کئی ممالک کے مقابلے میں سستی ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ پاکستان میں مارکیٹ بہت بڑی نہیں ہے لیکن اس میں موجود کمپنیوں کے لیے مقابلہ بہت سخت ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگرچہ اس کا فائدہ عوام یا صارفین کو ہوتا ہے لیکن ٹیلی کام سیکٹرز کے مارجنز یا منافع بہت زیادہ نہیں ہیں۔ ‏افتخار پرویز کا کہنا ہے کہ سخت مقابلہ ہے اور ٹیکسز زیادہ ہیں اور اس ٹیکنالوجی کو مستقل اپ گریڈیشن کی ضرورت ہوتی ہے اس لیے ان کے اخراجات بھی جاری رہتے ہیں۔ ‏اُن کے بقول ان کمپنیوں کے ذریعے پورے ملک میں زبردستی فائیو جی لانچ کروانا بے سود ہے کیونکہ مخصوص جگہوں پر فائیو جی ٹھیک ہے لیکن زیادہ ضروری یہ ہے کہ فور جی کی سروسز کو بہتر کیا جائے تاکہ بغیر روکے تیز انٹرنیٹ چلے۔ ‏ٹیلکام آپریٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عامر ابراہیم نے اخبار بزنس ریکاڈر میں لکھے گئے اپنے ایک مضمون میں کہا ہے کہ مناسب اقدامات مدنظر نہ رکھتے ہوئے فائیو جی ٹیکنالوجی کا نفاذ، فائدے سے زیادہ نقصان دہ ہو گا۔ ‏انھوں نے کہا کہ عوام کی اکثریت کے پاس فائیو جی والے فون نہیں ہیں اور جبری طور پر اگر فائیو جی نافذ کیا گیا تو یہ دو دھاری تلوار ہے کیونکہ ٹیکنالوجی اپ گریڈ کے لیے موبائل فون آپریٹرز کو کئی سازوسامان باہر منگوانے پڑیں گے لیکن فائیو جی کو استعال کرنے والے صارفین موجود نہیں ہیں۔ ‏ٹیلی کام سیکٹر کے ماہر اسلم حیات کا کہنا ہے کہ ملک میں فائیو جی کا فی الحال استعمال بہت کم ہے اور ابتدا میں یہ کمپنیوں کے لیے اضافی خرچ ہے جس کی طلب یا ضروری کم ہے۔ ‏اُن کے بقول علامتی طور پر ملک میں فائیو جی ہونا ضروری ہے لیکن حکومت کو چاہیے تھا کہ پہلے طلب بڑھانے کے لیے ماحول ساز گار کرتے کیونکہ آپریٹر سے توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ ٹیکنالوجی بھی لائے اور ڈیمانڈ بھی پیدا کرے۔ ‏اسلم حیات کا کہنا ہے کہ اگر ایک بار کوئی ٹیکنالوجی آ جاتی ہے تو بتدریج اُس کی ڈیمانڈ پیدا ہو جاتی ہے لیکن اُس میں وقت لگتا ہے۔ ‏ٹیلی کام سیکٹر کے ماہر پرویز افتخار کا کہنا ہے کہ ملک میں تیز رفتار انٹرنیٹ کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان میں زیادہ سپیکٹرم موجود ہو اور دوسری نمبر ڈیٹا کی منتقلی کے لیے یا تیز ڈؤان لوڈنگ اور اپ لویڈنگ کے لیے ضروری ہے کہ موبائل ٹاورز فائبر آپٹک کیبل سے منسلک ہوں۔ ‏ماہر پرویز افتخار کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ٹیلی کام کمپنیوں کے صرف 15 فیصد موبائل ٹاور فائبر آپٹک کیبل سے منسلک ہیں جبکہ یہ شرح انڈیا اور بنگلہ دیش میں زیادہ ہے۔ ‏انھوں نے کہا کہ تیز انٹرنیٹ سروس کے لیے پہلے یہ اقدامات کرنا ضروری ہیں۔ ‏پاکستان میں سپیکٹرم میں تاخیر کیوں ہوئی ہے؟ ‏پاکستان میں اس قبل بھی کئی مرتبہ حکومت سپیکٹرم کی نیلامی کی ہے لیکن زیادہ لائسنس فیس اور سخت ریگولیشنز کے سبب ان نیلامیوں میں سرمایہ کاروں نے یا تو حصہ ہی نہیں لایا یا بھر صرف وہ ایک، دو کمپنیاں شامل ہوئیں جنھیں سپیکٹرم خریدنے کی اشد ضرورت تھی۔ ‏ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں حکومت ٹیلی کام سیکٹر کے لائسنس کو حکومتی آمدن بڑھانے کا ذریعہ سمجھتی ہے جبکہ انھیں یہ سمجھنا چاہیے کہ ملک میں انٹرنیٹ کی رسائی ہونے سے معیشت بڑھتی ہے۔ ‏ماہرِ ٹیلی کام اسلم حیات کا کہنا ہے کہ ملک میں سیکٹرم کی ڈیمانڈ تھی لیکن زیادہ قیمت، غیر یقنی کی صورتحال اور سخت ریگولیٹری شرائط کے سبب اس میں تاخیر ہوتی رہی۔ ‏انھوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں دستیاب انٹرنیٹ یا فور جی کی سپیڈ دیگر خطے کے ممالک کے مقابلے میں کم ہے۔ ‏انھوں نے کہا کہ سنہ 2014 میں سپیکٹرم لائسنس کی نیلامی بھی قابلِ ذکر نہیں بلکہ 2016 اور 2017 اور 2021 میں ہونے والا نیلامی میں ایک، ایک ٹیلی کام کمپنی نے حصہ لیا جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ اُن کے لیے ہر نیلامی میں حصہ لینا اقتصادی طور پر سود مند نہیں تھا۔ ‏پاکستان میں کارپوریٹ سیکٹر کی آمدن پر ٹیکس کی شرح 29 فیصد ہے اور گذشتہ کچھ عرصے کے دوران ٹیلی کام سیکٹر کی لاگت بڑھنے سے بھی ٹیلی کام آپریٹرز کے منافع پر فرق پڑا ہے۔ ایسے میں مہنگی قیمت پر فروخت ہونے والے سپیکٹرم اُن کے لیے زیادہ منافع بخش نہیں ہیں۔ ‏ماہر ٹیلی کام پرویز افتخار کا کہنا ہے کہ ٹیلی کام ریگولیٹرز کے لیے ضروری ہے کہ وہ نیلامی سے محض آمدن بڑھانے کے بجائے زیادہ وسیع نظریے کے ساتھ اس معاملے پر آگے بڑھائیں کیونکہ پاکستان ٹیکنالوجی کے معاملے پر ابھی بھی خطے کے دیگر ممالک سے پچھے ہے۔ ‏ٹیلی کام سیکٹر کے ماہرین کے خیال میں سپیکٹرم کی نیلامی سے پاکستان میں انٹرنیٹ صارفین کو فائدہ ہو گا لیکن اس بار نیلامی کے لیے کمپنیوں کو رقم کی ادائیگی ڈالرز کے بجائے پاکستانی کرنسی میں کرنا ہو گی جس سے کسی حد تک تو فائدہ ہو گا لیکن ابھی نیلامی کے لیے بیس پرائس زیادہ ہے۔ ‏حکومت کا کیا کہنا ہے؟ ‏وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی نے بی بی سی کو دیے گئے جواب میں کہا ہے کہ سپیکٹرم کو فائیو جی ٹیکنالوجی سے منسلک نہیں کیا گیا ہے بلکہ حکومت آپریٹرز کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے کہ وہ اپنے صارفین اور کاروباری ضروریات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے سپیکٹرم سے فور جی یا فائیو جی متعارف کروائیں۔ ‏وزارات کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر اپنائی گئی پالیسیوں اور پاکستان کی ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے ہدف کو سامنے رکھتے ہوئے حکومت نے فائیو جی کے لانچ کے لیے آپریٹرز کے لیے لچک دار ٹائم لائن دی ہے۔ ‏ملک میں فائیو جی کی محدود طلب کے بارے میں وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کا کہنا ہے کہ آگرچہ ملک میں فائیو جی ٹیکنالوجی کے حامل موبائل فون ہینڈ سیٹس کی تعداد کم ہے لیکن ویڈیو سٹریمنگ، ڈیٹا کا استعمال اور کلاؤڈ سروس کی طلب میں مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ‏وزارت کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ساڑھے پندرہ کروڑ کی آبادی انٹرنیٹ استعمال کر رہی ہے اور سوشل میڈیا استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد بھی سات کروڑ ہے، ایسے میں نئی ٹیکنالوجی کے آنے سے اُس ٹیکنالوجی کی مانگ بڑھتی ہے۔ ‏پاکستان میں سپیکٹرم کی نیلامی کے لیے مختص کی گئی کم سے کم قیمت کے بارے میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا کہنا تھا کہ پاکستان درحقیقیت ایک ایسا ملک ہے جہاں موبائل فون آپیریٹرز کے لیے اوسطً فی صارف آمدن کم ہے اور پاکستان جیسی 25 کروڑ کی آبادی کے لیے نیٹ ورک کی فراہمی کے لیے زیادہ سرمایہ درکار ہے لیکن وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا کہنا ہے کہ تمام اُمور کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی سپیکٹرم لائسنس کے نیلامی کے لیے کم سے کم قیمت کا تعین کیا گیا, بشکریہ بی بی سی
Network Troubleshooting
where is whatsapp data stored in mac
Eman AbbasiE
WhatsApp data on a Mac is primarily stored within the user’s Library folder, specifically in container folders for the desktop application
Network Troubleshooting
opm -17.11 fiber pressure is ok?
Nemo MalikN
What is is best fiber signal for connectivity?
Network Troubleshooting
why windows changed subnet mask 248 when restart
K
I’m facing while system restart windows auto change subnet to 248 why?
Network Troubleshooting
Change SIM Network in Pakistan: How to Convert Zong SIM to Jazz, Jazz to Zong & Other Networks (Complete Guide)
zaasmiZ
Changing your SIM network in Pakistan has become extremely easy thanks to Mobile Number Portability (MNP). Whether you want to convert Zong SIM to Jazz, Jazz to Zong, or switch between Ufone, Jazz, and Zong, you can do it without changing your mobile number. In this detailed guide, we will cover: • Change SIM network step by step • How to convert Zong SIM to Jazz • Zong to Jazz MNP code • Jazz to Zong SIM convert method • Jazz SIM convert to Ufone • Ufone SIM convert to Jazz code (online & offline) • How to check converted SIM network ⸻ What Is SIM Network Change (MNP)? SIM network change, also known as Mobile Number Portability (MNP), allows you to switch your telecom network while keeping the same number. For example: • Zong → Jazz • Jazz → Zong • Jazz → Ufone • Ufone → Jazz No number change. No data loss. ⸻ Convert SIM Network – Basic Requirements Before you convert SIM, make sure: ✔ SIM is registered on your CNIC ✔ SIM is active for at least 60 days ✔ No unpaid balance (postpaid users) ✔ CNIC holder must visit the franchise ⸻ How to Convert Zong SIM to Jazz (Step-by-Step) Many users search “how to convert Zong SIM to Jazz”, and the process is simple. Zong to Jazz SIM Convert Method 1. From your Zong SIM, send SMS: MNP to 667 2. You will receive an MNP code 3. Visit your nearest Jazz Franchise or Service Center 4. Provide: • Original CNIC • Active Zong SIM • Received MNP code 5. Fill out the Jazz SIM conversion form 📌 Your SIM will convert within 3–4 working days ⸻ Zong to Jazz MNP Code (Important) There is no fixed Zong to Jazz MNP code. The system automatically generates a unique porting code when you send: MNP → 667 ⚠️ Avoid fake websites claiming instant online SIM conversion. ⸻ How to Convert Zong SIM to Jazz Online – Is It Possible? ❌ Fully online SIM conversion is NOT possible in Pakistan ✔ Online you can: • Check eligibility • Locate Jazz franchise • Book token (some cities) ✔ Physical visit is mandatory for biometric verification. ⸻ Convert Zong to Jazz – Common Benefits • Better Jazz 4G coverage • More affordable call packages • Wider roaming support • Strong business & corporate plans ⸻ Zong SIM Convert to Jazz – FAQs Q: Will my number change? No, your number stays the same. Q: How long does conversion take? 3–4 working days. ⸻ How to Convert Jazz SIM to Zong Users also search “how to convert Jazz SIM to Zong”. Jazz to Zong SIM Convert Steps 1. Send SMS from Jazz SIM:MNP to 667 2. Receive porting code 3. Visit Zong Customer Service Center 4. Submit CNIC + Jazz SIM + MNP code 5. Biometric verification completed ✔ SIM converts in 3–5 days ⸻ Jazz to Zong SIM Convert – Why Users Switch? • Strong Zong data bundles • Better internet speed in some areas • Affordable hybrid offers ⸻ Jazz SIM Convert to Ufone – Complete Process To convert Jazz SIM to Ufone: 1. Send MNP to 667 2. Receive porting code 3. Visit Ufone Franchise 4. Submit documents 5. Biometric verification ✔ Conversion time: 3–4 days ⸻ Ufone SIM Convert to Jazz Code (Online & Offline) Ufone to Jazz SIM Convert • SMS: MNP → 667 • Visit Jazz Franchise • CNIC biometric required ⚠️ No online-only code exists All conversions require physical verification ⸻ Convert SIM – Supported Networks in Pakistan You can convert between: • Jazz ↔ Zong • Jazz ↔ Ufone • Zong ↔ Ufone • Telenor ↔ Jazz / Zong / Ufone ⸻ How to Check Converted SIM Network After SIM conversion, many users ask “how to check converted SIM network”. Method 1: Dial Code Dial: *667# (may vary by operator) Method 2: Send SMS Send blank SMS to: 667 Method 3: Use PTA SIM Info • Visit PTA SIM Information portal • Enter your number ⸻ Common Problems During SIM Conversion ❌ Biometric mismatch ❌ SIM not 60 days old ❌ CNIC expired ❌ Pending balance ✔ Always resolve these before applying ⸻ Change SIM Network – Final Tips • Always visit official franchises • Never share CNIC copies online • Avoid agents claiming “instant online SIM convert” • Keep old SIM active until conversion completes ⸻ Final Words Whether you want to convert Zong SIM to Jazz, Jazz to Zong, or Jazz SIM convert to Ufone, Pakistan’s MNP system makes network switching simple and secure.
Network Troubleshooting
can we connect ubnt station/AP mode device in mobile?
Florencio LeeF
Can We connect a Ubiquiti (UBNT) device running in Station mode to a mobile phone, but it is not for directly browsing the internet through the station. Instead, this connection is used to configure, manage, and align the station device via the mobile app.
Network Troubleshooting
SpeedTest.Teez.net.pk — Pakistan’s Own Internet Speed Testing Platform
cyberianC
SpeedTest.Teez.net.pk 👇 ⸻ SpeedTest.Teez.net.pk — Pakistan’s Own Internet Speed Testing Platform In today’s connected world, speed matters more than ever. Whether you’re streaming, gaming, working remotely, or managing cloud-based systems, a reliable internet connection is essential. To help users across Pakistan accurately test their network performance, Teez.net.pk has introduced SpeedTest.Teez.net.pk, a dedicated platform designed to measure your internet speed with precision, simplicity, and local relevance. Unlike most global tools that rely on servers outside Pakistan, SpeedTest.Teez.net.pk uses locally hosted servers to provide more accurate results for users across the country. By reducing latency and focusing on regional network performance, it delivers realistic metrics for download speed, upload speed, and ping, helping you understand how your internet actually performs within Pakistan’s infrastructure. Built with modern web technology and powered by AI-assisted analytics, SpeedTest.Teez.net.pk not only shows your connection speed but also provides insights into your ISP’s performance, routing delays, and network stability. It’s especially valuable for businesses and home users looking to verify the consistency of their broadband or fiber connections. The platform is lightweight, fast, and privacy-focused — no unnecessary ads or tracking scripts, ensuring that the test results remain accurate and unbiased. Users can access it easily from any browser or mobile device at Check Now. Teez.net.pk, known for its growing role as an independent ISP and digital innovator, aims to strengthen Pakistan’s internet ecosystem by introducing transparent tools that empower users with data-driven insights. With plans to expand the service further through regional test nodes and mobile app integration, SpeedTest.Teez.net.pk is set to become a go-to resource for accurate, local speed testing across Pakistan. Please share your Speed Test Results.
Network Troubleshooting
Important Service Update: Submarine Cable Maintenance and Internet Traffic Impact
zareenZ
Valued Customers, We would like to inform you that internet traffic in Pakistan is currently being affected due to multiple cuts in submarine cable systems. Our teams are in close coordination with upstream providers to ensure swift updates and resolution of this issue. In addition to the ongoing challenge, there will also be planned and unavoidable maintenance activity on another submarine cable system. Please note the following schedule: 📅 Primary Maintenance Window • Start Time: 21 September 2025, 08:00 AM PST (GMT+5) • End Time: 21 September 2025, 05:00 PM PST (GMT+5) 📅 Backup Maintenance Window • Start Time: 22 September 2025, 08:00 AM PST (GMT+5) • End Time: 22 September 2025, 05:00 PM PST (GMT+5) ⚠️ Expected Impact During the maintenance window, customers may experience service degradation and slower internet connectivity. We understand how important stable internet connectivity is for your daily activities and business operations. Our team is working diligently to minimize the impact, and regular updates will be shared as soon as we receive further information. 🙏 We truly appreciate your patience and understanding. We apologize for any inconvenience this may cause and assure you that restoring smooth services remains our top priority.
Network Troubleshooting
ubnt ap cp sync but link not working
J
If an Ubiquiti UniFi AP is syncing with the controller but the link isn’t working (no connection to the network), it usually indicates a problem with the physical connection or the AP’s network configuration. Troubleshooting steps include checking the physical link, verifying the AP’s IP address and subnet, and ensuring the controller can reach the AP.
Network Troubleshooting
How to add ping in google sheets
zaasmiZ
In the context of Google Sheets, “ping” can refer to two different functionalities: tagging users in comments or cells, or freezing rows/columns to keep data visible while scrolling. It can also refer to using Google Apps Script to check the availability of a network endpoint, like an IP address. Tagging Users (Like “Ping” in Social Media): You can tag users in Google Sheets to notify them about a specific cell or comment. To tag, type the “@” symbol, then start typing the name or email of the person you want to tag. A list of potential users will appear, and you can select the one you want to tag. Freezing Rows or Columns: Freezing allows you to “pin” data, keeping it visible on the screen even when you scroll. This is useful for headers or data that you need to refer to constantly. To freeze, go to “View” > “Freeze” and choose the number of rows or columns to freeze. Using Apps Script to “Ping” IP Addresses: You can use Google Apps Script to check if a specific IP address is reachable, essentially “pinging” it. This involves writing a script that sends an ICMP request to the IP address and checks for a response. The script can then populate a cell in your sheet with a “True” or “False” value, indicating whether the address is reachable. Example of using Apps Script to ping: function pingIpAddress() { // Replace 'A1' with the cell containing the IP address you want to ping var ipAddress = SpreadsheetApp.getActiveSpreadsheet().getActiveSheet().getRange("A1").getValue(); // Check if the IP address is reachable var url = 'https://ipinfo.io/ip?token=YOUR_TOKEN'; // Replace YOUR_TOKEN with your ipinfo token var options = { 'method': 'get', 'contentType': 'application/json' }; var response = UrlFetchApp.fetch(url, options); var json = JSON.parse(response.getContentText()); var ip = json.ip; SpreadsheetApp.getActiveSpreadsheet().getActiveSheet().getRange("B1").setValue(ipAddress==ip?"True":"False"); }
Network Troubleshooting
airview is disabled because dfs pre scan is active
zaasmiZ
“AirView is disabled because DFS Pre Scan is active.” ⸻ 🔍 What it means: This message appears when your device (typically a Ubiquiti AP or other 5GHz Wi-Fi device) is operating on a DFS (Dynamic Frequency Selection) channel. DFS channels require your device to scan for radar signals before broadcasting — this is called a DFS Pre-Scan. During this scan, certain features like AirView (the spectrum analyzer) are temporarily disabled. ⸻ ✅ How to fix it: Option 1: Wait for the DFS Pre-Scan to finish • The DFS scan usually takes 1 to 10 minutes. • Once it completes and no radar is detected, AirView will be enabled again. Option 2: Switch to non-DFS channels If you need AirView immediately: 1. Log in to your device or controller interface (UniFi Controller, or device Web UI). 2. Go to the Wireless Settings. 3. For the 5GHz band, manually select non-DFS channels only (like 36, 40, 44, or 48). 4. Save the changes. 5. Reboot the access point if needed. Note: DFS channels include 52–144. Non-DFS channels are safer for tools like AirView and provide instant startup without delay. ⸻ 🧠 Extra Tips: • In some regions, regulatory laws require DFS usage — disabling them may limit your frequency options but will keep tools like AirView available. • DFS is used to avoid interference with weather radar and aviation equipment. ⸻ Let me know your exact device model, and I can give you step-by-step visuals or configuration help if you’d like!
Network Troubleshooting
email online status
Engrnaveed SaeedE
Connections to the server “example.com” on the default ports timed out.
Network Troubleshooting
isp core network Understanding
Hamna SaleemH
An ISP core network, also known as a backbone network, is a central part of a telecommunications network that connects and routes traffic between different parts of the network?
Network Troubleshooting
How to Fix “TTL Expired in Transit” Error on Windows 10 and Routers
cyberianC
The error “TTL Expired in Transit” is a common issue in network troubleshooting, especially when dealing with routing problems. This message typically occurs when a packet exceeds the maximum number of hops before reaching its destination. In this article, we’ll explore what this error means, what causes it, and how to solve it on Windows 10 and routers, including Cisco devices. What Does “TTL Expired in Transit” Mean? TTL (Time to Live) is a field in an IP packet that determines the number of hops (routers or switches) a packet can traverse before being discarded. Each time the packet passes through a router, the TTL value decreases by 1. When the TTL reaches 0 before the packet reaches its destination, the router discards the packet and returns the “TTL Expired in Transit” error message. What Causes “TTL Expired in Transit”? There are several causes for this error, including: Routing Loops: If the network routes a packet in circles between multiple routers, the TTL count may reach 0, causing the packet to expire. Distance: The packet may need to travel through more hops than the TTL value allows, especially in larger networks or complex routing paths. Firewall or Security Restrictions: In some cases, security software or firewalls may interfere with TTL values and cause the packet to expire prematurely. How to Fix “TTL Expired in Transit” in Windows 10 Check Your Network Configuration: Incorrect IP settings or a misconfigured gateway could be causing routing loops. Run the Windows Network Troubleshooter to identify any configuration issues. Go to Settings > Update & Security > Troubleshoot > Internet Connections. Use the Tracert Command: To locate where the packet is being dropped, use the tracert command in Command Prompt. Open Command Prompt as Administrator and type:tracert <destination IP> This will show the path your packet is taking and where it might be getting stuck. Increase TTL Value in Ping: If the destination is too far or there are too many hops, try increasing the TTL value when using the ping command. Open Command Prompt and type:ping <destination IP> -i 128 This increases the default TTL value to 128. Check Router and Firewall Settings: Ensure your router isn’t blocking or manipulating packets’ TTL values. You may also need to check your firewall settings on your PC or network. Fixing “TTL Expired in Transit” on Routers (Including Cisco) Check for Routing Loops: Use traceroute on your router to identify any routing loops in your network. Cisco routers can run this command to trace packet paths: traceroute <destination IP> Review Routing Tables: Ensure the routing tables on your Cisco or other routers are correctly configured. Misconfigured routes can cause packets to loop. Adjust TTL Settings: In Cisco routers, you can use the following command to adjust the TTL value: ip ttl <value> This can help when you’re dealing with packets that need to travel through multiple hops. Network Monitoring: Regularly monitor your network for any unusual routing activity or loops using network management software. “TTL Expired in Transit” vs. “Request Timed Out” TTL Expired in Transit: This error occurs when the packet hits the maximum number of hops before reaching its destination. Request Timed Out: This error happens when a response isn’t received within the timeout period. It can be caused by network congestion, dropped packets, or firewalls blocking traffic. Conclusion The “TTL Expired in Transit” error is typically caused by routing issues, including loops or long paths that exceed the packet’s TTL value. To resolve this issue on Windows 10, routers, or Cisco devices, you can check your network configuration, use tools like tracert, and adjust TTL values. Monitoring your network for routing loops and ensuring proper configurations will help prevent this error from occurring in the future.
Network Troubleshooting

5g auction results in Pakistan

Scheduled Pinned Locked Moved Network Troubleshooting
5g5g in pakistan5g speed test5 g launches in pakistanpakistan 5g companies
1 Posts 1 Posters 3 Views 1 Watching
  • Oldest to Newest
  • Newest to Oldest
  • Most Votes
Reply
  • Reply as topic
Log in to reply
This topic has been deleted. Only users with topic management privileges can see it.
  • cyberianC Offline
    cyberianC Offline
    cyberian
    Cyberian's Cyberian's Gold
    wrote last edited by
    #1

    ‏80 میگا ہرٹز سپیکٹرم کی 507 ملین ڈالر میں نیلامی: کیا پاکستان میں ’سست انٹرنیٹ‘ کا حل فائیو جی ٹیکنالوجی میں چھپا ہے؟
    ‏20 جنوری 2026اپ ڈیٹ کی گئی ایک گھنٹہ قبل مطالعے کا وقت: 14 منٹ
    ‏’سوری میرا انٹرنیٹ نہیں چل رہا تھا اس لیے آپ کا پیغام دیر سے ملا۔‘
    ‏’میڈم آج کارڈ نہیں چلے گا انٹرنیٹ بند ہے، اس لیے صرف کیش چلے گا۔‘
    ‏پاکستان میں یہ جملے ہمیں اکثر سننے کو ملتے ہیں اور ہم میں اکثر افراد کو بعض اوقات ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب موبائل فون جیسی سہولت کسی مشکل صورتحال میں سگنل نہ آنے یا انٹرنیٹ نہ چلنے کے سبب ہمارے کام نہیں آ پاتی۔
    ‏تاہم اب حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں فائیو جی ٹیکنالوجی کے اجرا کے لیے سپیکٹرم کی کامیاب نیلامی کے بعد یہ مسئلہ بڑی حد تک حل ہو جائے گا۔
    ‏پاکستان میں ٹیلی کمیونیکشن کے نگراں ادارے پی ٹی اے نے ملک میں فائیو جی ٹیکنالوجی کے اجرا کے لیے 480 میگاہرٹز سپیکٹرم کی نیلامی کا عمل منگل کو مکمل کیا ہے۔
    ‏یہ سپیکٹرم 507 ملین ڈالر میں فروخت ہوئے ہیں اور حکومت کا کہنا ہے کہ رواں سال کے اختتام تک ملک کے بڑے شہروں میں فائیو جی کی سہولت دستیاب ہو گی۔
    ‏سپیکٹرم کی نیلامی کے لیے تقریب اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔ اس نیلامی میں پاکستان میں ٹیلی کام سروسز فراہم کرنے والی تینوں کمپنیوں زونگ، جاز اور یو فون نے حصہ لیا۔
    ‏نیلامی مکمل ہونے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے پی ٹی اے کے چیئرمین میجر جنرل ریٹائرڈ حفیظ الرحمان نے بتایا کہ فائیو جی سپیکٹرم کی نیلامی تین ادوار میں مکمل ہوئی اور اس دوران فائیو جی کے لیے دستیاب 597 میں سے 480 میگاہرٹز سپیکٹرم فروخت ہوا ہے۔
    ‏پی ٹی اے کے چیئرمین کے مطابق بولی کے دوارن جاز نے مجموعی طور پر 190 میگاہرٹز، یو فون نے 180 میگا ہرٹز اور زونگ نے 110 میگا ہرٹز سپیکٹرم خریدا ہے۔

    ‏پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی کا کہنا ہے کہ 700 میگا ہرٹز کے تین لائسنس، 2300 میگا ہرٹز کے تمام لائسنس، 2600 میگا ہرٹز کے 19 لائسنس اور3500 میگا ہرٹز کے 28 لائسنس نیلام کیے گئے ہیں۔ یہ تمام لائسنس ٹیلی کام کمپنیوں کو 15 سال کے لیے دیے جائیں گے۔

    ‏سپیکٹرم خریدنے والی کمپنی کو شروع میں کوئی ادائیگی نہیں کرنی پڑے گی لیکن انھیں پہلے سال کے اختتام پر 50 فیصد رقم ادا کرنی ہو گی جبکہ باقی 50 فیصد رقم پانچ اقساط میں ادا کی جائے گی۔

    ‏میجر جنرل ریٹائرڈ حفیظ الرحمان نے کہا کہ سپیکٹرم کی فروخت سے صارفین کو بہتر انٹرنیٹ کی سہولیات کی فراہمی ممکن ہو گی۔

    ‏تقریب میں شریک وفافی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ پاکستان اب اُن ممالک کی فہرست میں شامل ہو جائے گا کہ جہاں فائیو ٹیکنالوجی موجود ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس مرحلے کو مکمل کرنے میں انڈسٹری اور ٹیلی کام کمپنیوں نے اہم کرداد اد کیا اور رواں سال کے آخر تک اسلام آباد، لاہور، پشاور، کراچی اور کوئٹہ میں فائیو جی دستیاب ہو گا۔
    ‏انھوں نے کہا کہ فائیو جی کے لائسنس کے اجرا کا مقصد زیادہ آمدن کمانا نہیں تھا بلکہ اس کا مقصد ٹیلی کام آپریٹرز کے نیٹ ورک کی توسیع اور انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانا ہے تاکہ صارفین کے لیے بہتر اور معیاری ڈیجیٹل خدمات فراہم کی جا سکیں۔
    ‏اس موقع پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ ملک کی معاشی ترقی اور ڈیجیٹل پاکستان کے حصول کے لیے فائیو جی بہت ضروری ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ ٹیلی کیمونیکیشن نظام کو جدید اور مضبوط بنائیں تاکہ ڈیجٹیل پاکستان کا حصول ممکن ہو سکے۔
    ‏پاکستان ٹیلی کام ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے نیلامی کے لیے جاری انفارمیشن میمورینڈم کے مطابق ملک میں سنہ 2035 تک تین مختلف مرحلوں میں فائیو جی لانچ کیا جائے گا۔ نیلامی کی شرائط کے مطابق پہلے مرحلے میں ٹیلی کام کمپنیوں پر لازم ہو گا کہ وہ سنہ 2028 تک ملک کے بڑے شہروں میں فائیو جی لانچ کریں اور فور جی کی سپیڈ کو بھی بڑھا کر کم سے کم 20 ایم بی تک کیا جائے۔
    ‏ماہرین کا کہنا ہے کہ سپیکٹرم لائسنس کی نیلامی سے موبائل فون سروسز فراہم کرنے والی سیلولر کمپنیاں اور انٹرنیٹ سروسز فراہم کرنے والی زیادہ برینڈوتھ کے ذریعے تیز سروس فراہم کریں گے۔
    ‏پاکستان میں ماضی میں انٹرنیٹ اور موبائل فون کے سگنلز سکیورٹی یا دیگر وجوہات کو جواز بنا کر بند کیے جاتے رہے ہیں اور اکثر اوقات میں ملک میں موجود انٹرنیٹ کی سپیڈ اتنی سست ہو جاتی ہے کہ لگتا ہے انٹرنیٹ لگ بھگ بند ہو گیا ہے۔
    ‏سپیکٹرم کا لائسنس، برینڈورتھ، فائیو جی سروسز، یہ سب کافی ٹیکنکل معاملات ہیں اور عمومًا عوام کی اولین ترجیح تیز رفتار اور بلا تعطل انٹرنیٹ ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس کو سمجھے بغیر سست رفتار انٹرنیٹ کا مسئلہ سمجھ نہیں آئے گا۔
    ‏چلیں اصلاحات کو سمجھتے ہوئے یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ کیا تیزرفتار انٹرنیٹ کا خواب پورا کرنے کے لیے صرف سپیکٹرم لائسنس ہی جادو کی چھڑی ہے؟ یا پھر کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ حکومت موٹر وے بنا رہی ہے لیکن اُس پر چلانے کے لیے عوام کے پاس گاڑی ہی نہ ہو۔
    ‏پاکستان میں اِس وقت انٹرنیٹ سست کیوں ہے اور یہ تیز کیسے ہو گا؟
    ‏پاکستان میں انٹرنیٹ چاہے آپ موبائل پر استعمال کریں یا گھر پر کیبل انٹرنیٹ کے ذریعے، اُس کے لیے یہ کمپنیاں 274 میگا ہیٹز سپیکٹرم استعمال کرتی ہیں یعنی انٹرنیٹ اور ٹیلی کام کی ساری ٹریفک اسی راستے سے گزر کر جائے گی۔

    ‏سپیکٹرم سے مراد فضا میں موجود وہ راستے ہیں جو کمپنیوں کو استعمال کرنے کی اجازت ہے۔ جوں جوں پاکستان میں انٹرنیٹ کا استعمال بڑھا ہے صارفین کی تعداد بڑھنے سے اس راستے یعنی سپیکٹرم پر رش بڑھ گیا ہے اور ہمیں آئے روز سست انٹرنیٹ، سگنل پورے نہ ملنے جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    ‏ٹیلی کام انڈسٹری سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں جو سپیکٹرم استعمال ہو رہا ہے وہ خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں بہت کم ہے یعنی بنگلہ دیش کی حکومت نے بھی 600 سے زیادہ سپیکٹرم استعمال کرنے کی اجازت دی ہوئی ہے۔
    ‏ٹیلی کام شعبے کے ماہر پرویز افتخار کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ٹیلی کام کے شعبے کے لیے دستیاب سپیکٹرم خطے کے دوسرے ممالک کے مقابلے میں آدھا ہے اور یہی وجہ ہے کہ انٹرنیٹ کی ڈیٹا سپیڈ کم ہو جاتی ہے اور نیٹ ورک کے جام ہونے جیسے شکایات سامنے آتی ہیں۔
    ‏بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ انٹرنیشنل ٹیلی کیمونیکیشن یونین کے مطابق براڈ بینڈ انٹرنیٹ کے لیے 900 سے زائد میگا ہیڈز سپیکٹرم درکار ہوتا ہے لیکن پاکستان میں حکومت نے اس جانب توجہ نہیں دی۔
    ‏پاکستان کی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزہ فاطمہ خواجہ نے فروری میں فائیو جی سپیکٹرم لائسنس کی نیلامی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان میں کام کرنے والی ٹیلی کام کمپنیاں اضافی سپیکٹرم خرید سکیں گی۔
    ‏ماہرین کے خیال میں یہ ٹیلی کام انڈسٹری کے لیے حوصلہ بخش اقدام ہے کیونکہ اس سے ٹیلی کام کے شعبے کے پاس 700 میگا ہیڈز سپیکٹرم موجود ہو گا جس سے انٹرنیٹ کی سپیڈ، کالز کی کوالٹی اور بہتر ڈیٹا سروسز دستیاب ہو گی۔

    ‏انڈسٹری سے وابستہ افراد سپیکٹرم بڑھنے کے اعلان پر خوش ضرور ہے لیکن اُن کے خیال میں اس سپیکٹرم کو فائیو جی کے اجرا کے ساتھ منسلک کرنا ضروری نہیں ہے۔
    ‏ماہر ٹیلی کام سیکٹر اسلم حیات کا کہنا ہے کہ سپیکٹرم کے اجرا سے صارفین کو تیز رفتار انٹرنیٹ تو ملے گا لیکن اسے انٹرنیٹ کی سروسز کو بہتر کرنے کو فائیو جی ٹیکنالوجی سے منسلک نہیں کرنا چاہیے۔
    ‏ڈیجیٹل پاکستان کا خواب، زمینی حقائق اور فائیو جی ٹیکنالوجی
    ‏اکستان میں دس سال قبل فور جی ٹیکنالوجی متعارف کروائی گئی تھی اور اس وقت ملک میں فور جی اور تھری جی ٹیکنالوجی دونوں موجود ہیں لیکن خطے کے دیگر ممالک کی طرح فائیو جی ٹیکنالوجی دستیاب نہیں ہے۔

    ‏ملک میں ہونے والے حالیہ حکومتی ہاؤس ہولڈ سروے کے مطابق 70 فیصد گھرانوں کے پاس انٹرنیٹ کی سہولت ہے جبکہ ملک کی 57 فیصد افراد انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں۔

    ‏وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزہ فاطمہ کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل پاکستان کے ویژن کو آگے بڑھاتے ہوئے پاکستان کی ٹیلی کام کمپنیاں ملک میں جلد فائیو جی ٹیکنالوجی متعارف کروائیں گی۔ انھوں نے کہا تھا کہ سپیکٹرم لائسنس کے بعد ملک میں فور جی انٹرنیٹ کی سروسز بھی بہتر ہوں گی۔

    ‏لیکن ٹیلی کام انڈسٹری سے منسلک افراد کا کہنا ہے کہ پاکستان میں فائیو جی استعمال کرنے والے صارفین کی نہ صرف تعداد بہت کم ہے بلکہ بہت ہی کم افراد ایسے موبائل فون سیٹ یا انٹرنیٹ موڈیم خریدنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جس پر فائیو جی ٹیکنالوجی چل سکے۔

    ‏ٹیلی کام سیکٹر کے ماہر اسلم حیات کا کہنا ہے کہ پاکستان مختلف وجوہات کے سبب خطے میں ٹیکنالوجی کے لحاظ سے پیچھے رہ گیا ہے اس لیے حکومت سپیکٹرم کے ساتھ فائیو جی بھی لانا چاہتی ہے لیکن اُن کا کہنا ہے کہ فائیو جی ٹیکنالوجی کو لانے سے پہلے اُس کے لیے ساز گار ماحول بنایا ضروری ہے۔
    ‏بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اسلم حیات کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ٹیلی کام کمپمنیاں سخت ریگولیشن اور انتہائی سخت مقابلے میں کام کر رہی ہیں ٹیلی کام سیکٹر پر ٹیکسز اور پھر روپے کی قدر میں کمی سے اُن کے اخراجات بڑھ گئے ہیں ایسے میں فائیو جی کی شرط لاگو کرنے سے ٹیلی کام کمپنیوں پر مزید بوجھ بڑھے گا۔
    ‏پاکستان موبائل آپریٹرز ایڈوائزری کونسل کے ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں صرف دو فیصد صارفین کے پاس ایسے آئی فون، سام سنگ یا مہنگے چینی کمپنیوں کے بنے موبائل فونز ہیں جن پر فائیو جی ٹیکنالوجی چل سکتی ہے۔ تاہم بی بی سی اس اندازے کی تصدیق نہیں کر سکتا ہے۔
    ‏ملکی سطح پر بننے والے موبائل فونز، جو زیادہ تر افراد استعمال کرتے ہیں، میں سے 60 فیصد فونز پر صرف ٹو جی ہی چلتا ہے۔ ایسے میں مقامی سطح پر بننے والے فونز اب کم قیمت فور جی فونز بنانے پر توجہ دے رہے ہیں۔ ماہرین کا دعویٰ ہے کہ اگر فائیو جی ٹیکنالوجی آتی ہے تو یہ صرف محدود طبقے کے لیے ہی قابلِ استعمال ہو گی۔
    ‏انٹرنیٹ کمیونیکشن ٹیکنالوجی کے ماہر پرویز افتخار کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی اپ گریڈ کرنا ضروری ہے اور اگر حکومتی علامتی طور فائیو جی متعارف کروانا چاہتی ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
    ‏لیکن وہ اس بات سے متفق ہیں کہ پاکستان میں فی الحال فائیو جی ٹیکنالوجی کی کھپت نہیں۔
    ‏بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ فائیو جی کا زیادہ استعمال عام صارفین کے بجائے بڑے پیمانے پر اُن سیکٹر میں ہوتا ہے جہاں رییئل ٹائم پر ڈیٹا اکٹھا کیا جائے، جیسے ایگریکلچر فارم، کیٹل فارم جہاں سینسرز کے ذریعے ڈیٹا اکٹھا کیا جاتا ہے۔ اُن کے مطابق کلاوڈ یا ڈیٹا سینٹرز ابھی پاکستان میں کم ہیں لیکن مستقبل میں بڑھیں گے اس لیے فائیو جی ٹیکنالوجی کی اپ گریڈیشن ضروری ہے
    ‏حکومت کا فائیو جی کا اصرار اور کمپنیوں کی ہچکچاہٹ

    ‏حکومت نے ملک میں فائیو جی کے اجرا کے لیے پلان تو جاری کر دیا ہے لیکن سیلولر یا موبائل فون سروسز فراہم کرنے والی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ فائیو جی ٹیکنالوجی لانے کے لیے کمپنیوں کو اپنے انفرسٹرکچر کو اپ ڈیٹ کرنا پڑے گا جس کے لیے انھیں دوسرے ممالک سے مشینری منگوانی پڑی گی، اور دوسری جانب صارفین کی قوتِ خرید کم ہونے سے مارکیٹ میں اس کی ڈیمانڈ نہیں ہے۔

    ‏اُن کا کہنا ہے کہ موبائل کمپنیوں کے صارفین کی اکثریت وہ ہے جو پری پیڈ پیکجز خریدتی ہے یعنی کمپنی کی آمدن کا زیادہ تر حصہ پوسٹ پیڈ یا ماہانہ بلنگ کے بجائے پری پیڈ پر منحصر ہے۔ ایسے میں فائیو جی کے ممکنہ صارفین کی تعداد اور کم ہے۔
    ‏پاکستان کا شمار اُن ممالک میں ہوتا ہے جہاں موبائل فون استعمال کرنے والے افراد کی تعداد 19 کروڑ 25 لاکھ ہے۔ پاکستان ٹیلی کیمونیکشن اتھارٹی کے اعدادوشمار کے مطابق 14 کروڑ 98 لاکھ افراد کے پاس براڈ بینڈ انٹرنیٹ کی سہولت موجود ہے لیکن بڑی تعداد میں صارفین ہونے کے باوجود بھی ٹیلی کام انڈسٹری کا زیادہ تر انحصار کم فون استعمال کرنے والے پری پیڈ صارفین پر مشتمل ہے۔
    ‏یہی سبب ہے کہ ٹیلی کام انڈسٹری کی فی صارف اوسط آمدن یا ریونیو ایک ڈالر ہے جو خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کم ہے۔
    ‏ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیلی کام ڈی ریگولیٹڈ سیکٹر ہے اور حکومت کے بجائے اس فائیو جی لانے یا نہ لانے کا فیصلہ ٹیلی کام کمپنیوں کو ہونا چاہیے۔
    ‏ماہر افتخار پرویز بھی اس بات سے متفق ہیں کہ پاکستان میں انٹرنیٹ یا موبائل فون سروسز دیگر کئی ممالک کے مقابلے میں سستی ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ پاکستان میں مارکیٹ بہت بڑی نہیں ہے لیکن اس میں موجود کمپنیوں کے لیے مقابلہ بہت سخت ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگرچہ اس کا فائدہ عوام یا صارفین کو ہوتا ہے لیکن ٹیلی کام سیکٹرز کے مارجنز یا منافع بہت زیادہ نہیں ہیں۔
    ‏افتخار پرویز کا کہنا ہے کہ سخت مقابلہ ہے اور ٹیکسز زیادہ ہیں اور اس ٹیکنالوجی کو مستقل اپ گریڈیشن کی ضرورت ہوتی ہے اس لیے ان کے اخراجات بھی جاری رہتے ہیں۔
    ‏اُن کے بقول ان کمپنیوں کے ذریعے پورے ملک میں زبردستی فائیو جی لانچ کروانا بے سود ہے کیونکہ مخصوص جگہوں پر فائیو جی ٹھیک ہے لیکن زیادہ ضروری یہ ہے کہ فور جی کی سروسز کو بہتر کیا جائے تاکہ بغیر روکے تیز انٹرنیٹ چلے۔
    ‏ٹیلکام آپریٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عامر ابراہیم نے اخبار بزنس ریکاڈر میں لکھے گئے اپنے ایک مضمون میں کہا ہے کہ مناسب اقدامات مدنظر نہ رکھتے ہوئے فائیو جی ٹیکنالوجی کا نفاذ، فائدے سے زیادہ نقصان دہ ہو گا۔
    ‏انھوں نے کہا کہ عوام کی اکثریت کے پاس فائیو جی والے فون نہیں ہیں اور جبری طور پر اگر فائیو جی نافذ کیا گیا تو یہ دو دھاری تلوار ہے کیونکہ ٹیکنالوجی اپ گریڈ کے لیے موبائل فون آپریٹرز کو کئی سازوسامان باہر منگوانے پڑیں گے لیکن فائیو جی کو استعال کرنے والے صارفین موجود نہیں ہیں۔
    ‏ٹیلی کام سیکٹر کے ماہر اسلم حیات کا کہنا ہے کہ ملک میں فائیو جی کا فی الحال استعمال بہت کم ہے اور ابتدا میں یہ کمپنیوں کے لیے اضافی خرچ ہے جس کی طلب یا ضروری کم ہے۔
    ‏اُن کے بقول علامتی طور پر ملک میں فائیو جی ہونا ضروری ہے لیکن حکومت کو چاہیے تھا کہ پہلے طلب بڑھانے کے لیے ماحول ساز گار کرتے کیونکہ آپریٹر سے توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ ٹیکنالوجی بھی لائے اور ڈیمانڈ بھی پیدا کرے۔
    ‏اسلم حیات کا کہنا ہے کہ اگر ایک بار کوئی ٹیکنالوجی آ جاتی ہے تو بتدریج اُس کی ڈیمانڈ پیدا ہو جاتی ہے لیکن اُس میں وقت لگتا ہے۔
    ‏ٹیلی کام سیکٹر کے ماہر پرویز افتخار کا کہنا ہے کہ ملک میں تیز رفتار انٹرنیٹ کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان میں زیادہ سپیکٹرم موجود ہو اور دوسری نمبر ڈیٹا کی منتقلی کے لیے یا تیز ڈؤان لوڈنگ اور اپ لویڈنگ کے لیے ضروری ہے کہ موبائل ٹاورز فائبر آپٹک کیبل سے منسلک ہوں۔
    ‏ماہر پرویز افتخار کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ٹیلی کام کمپنیوں کے صرف 15 فیصد موبائل ٹاور فائبر آپٹک کیبل سے منسلک ہیں جبکہ یہ شرح انڈیا اور بنگلہ دیش میں زیادہ ہے۔
    ‏انھوں نے کہا کہ تیز انٹرنیٹ سروس کے لیے پہلے یہ اقدامات کرنا ضروری ہیں۔
    ‏پاکستان میں سپیکٹرم میں تاخیر کیوں ہوئی ہے؟
    ‏پاکستان میں اس قبل بھی کئی مرتبہ حکومت سپیکٹرم کی نیلامی کی ہے لیکن زیادہ لائسنس فیس اور سخت ریگولیشنز کے سبب ان نیلامیوں میں سرمایہ کاروں نے یا تو حصہ ہی نہیں لایا یا بھر صرف وہ ایک، دو کمپنیاں شامل ہوئیں جنھیں سپیکٹرم خریدنے کی اشد ضرورت تھی۔
    ‏ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں حکومت ٹیلی کام سیکٹر کے لائسنس کو حکومتی آمدن بڑھانے کا ذریعہ سمجھتی ہے جبکہ انھیں یہ سمجھنا چاہیے کہ ملک میں انٹرنیٹ کی رسائی ہونے سے معیشت بڑھتی ہے۔
    ‏ماہرِ ٹیلی کام اسلم حیات کا کہنا ہے کہ ملک میں سیکٹرم کی ڈیمانڈ تھی لیکن زیادہ قیمت، غیر یقنی کی صورتحال اور سخت ریگولیٹری شرائط کے سبب اس میں تاخیر ہوتی رہی۔
    ‏انھوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں دستیاب انٹرنیٹ یا فور جی کی سپیڈ دیگر خطے کے ممالک کے مقابلے میں کم ہے۔
    ‏انھوں نے کہا کہ سنہ 2014 میں سپیکٹرم لائسنس کی نیلامی بھی قابلِ ذکر نہیں بلکہ 2016 اور 2017 اور 2021 میں ہونے والا نیلامی میں ایک، ایک ٹیلی کام کمپنی نے حصہ لیا جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ اُن کے لیے ہر نیلامی میں حصہ لینا اقتصادی طور پر سود مند نہیں تھا۔
    ‏پاکستان میں کارپوریٹ سیکٹر کی آمدن پر ٹیکس کی شرح 29 فیصد ہے اور گذشتہ کچھ عرصے کے دوران ٹیلی کام سیکٹر کی لاگت بڑھنے سے بھی ٹیلی کام آپریٹرز کے منافع پر فرق پڑا ہے۔ ایسے میں مہنگی قیمت پر فروخت ہونے والے سپیکٹرم اُن کے لیے زیادہ منافع بخش نہیں ہیں۔
    ‏ماہر ٹیلی کام پرویز افتخار کا کہنا ہے کہ ٹیلی کام ریگولیٹرز کے لیے ضروری ہے کہ وہ نیلامی سے محض آمدن بڑھانے کے بجائے زیادہ وسیع نظریے کے ساتھ اس معاملے پر آگے بڑھائیں کیونکہ پاکستان ٹیکنالوجی کے معاملے پر ابھی بھی خطے کے دیگر ممالک سے پچھے ہے۔
    ‏ٹیلی کام سیکٹر کے ماہرین کے خیال میں سپیکٹرم کی نیلامی سے پاکستان میں انٹرنیٹ صارفین کو فائدہ ہو گا لیکن اس بار نیلامی کے لیے کمپنیوں کو رقم کی ادائیگی ڈالرز کے بجائے پاکستانی کرنسی میں کرنا ہو گی جس سے کسی حد تک تو فائدہ ہو گا لیکن ابھی نیلامی کے لیے بیس پرائس زیادہ ہے۔
    ‏حکومت کا کیا کہنا ہے؟
    ‏وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی نے بی بی سی کو دیے گئے جواب میں کہا ہے کہ سپیکٹرم کو فائیو جی ٹیکنالوجی سے منسلک نہیں کیا گیا ہے بلکہ حکومت آپریٹرز کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے کہ وہ اپنے صارفین اور کاروباری ضروریات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے سپیکٹرم سے فور جی یا فائیو جی متعارف کروائیں۔
    ‏وزارات کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر اپنائی گئی پالیسیوں اور پاکستان کی ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے ہدف کو سامنے رکھتے ہوئے حکومت نے فائیو جی کے لانچ کے لیے آپریٹرز کے لیے لچک دار ٹائم لائن دی ہے۔
    ‏ملک میں فائیو جی کی محدود طلب کے بارے میں وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کا کہنا ہے کہ آگرچہ ملک میں فائیو جی ٹیکنالوجی کے حامل موبائل فون ہینڈ سیٹس کی تعداد کم ہے لیکن ویڈیو سٹریمنگ، ڈیٹا کا استعمال اور کلاؤڈ سروس کی طلب میں مسلسل بڑھ رہی ہے۔
    ‏وزارت کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ساڑھے پندرہ کروڑ کی آبادی انٹرنیٹ استعمال کر رہی ہے اور سوشل میڈیا استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد بھی سات کروڑ ہے، ایسے میں نئی ٹیکنالوجی کے آنے سے اُس ٹیکنالوجی کی مانگ بڑھتی ہے۔
    ‏پاکستان میں سپیکٹرم کی نیلامی کے لیے مختص کی گئی کم سے کم قیمت کے بارے میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا کہنا تھا کہ پاکستان درحقیقیت ایک ایسا ملک ہے جہاں موبائل فون آپیریٹرز کے لیے اوسطً فی صارف آمدن کم ہے اور پاکستان جیسی 25 کروڑ کی آبادی کے لیے نیٹ ورک کی فراہمی کے لیے زیادہ سرمایہ درکار ہے لیکن وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا کہنا ہے کہ تمام اُمور کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی سپیکٹرم لائسنس کے نیلامی کے لیے کم سے کم قیمت کا تعین کیا گیا, بشکریہ بی بی سی

    Discussion is right way to get Solution of the every assignment, Quiz and GDB.
    We are always here to discuss and Guideline, Please Don't visit Community only for Solution.
    Community Team always happy to facilitate to provide the idea solution. Please don't hesitate to contact us!
    [NOTE: Don't copy or replicating idea solutions.]
    Quiz Copy Solution
    Mid and Final Past Papers
    WhatsApp Channel
    Mobile Tax Calculator

    1 Reply Last reply
    0

    Reply
    • Reply as topic
    Log in to reply
    • Oldest to Newest
    • Newest to Oldest
    • Most Votes


    Reputation Earning
    How to Build a $1,000/Month World CUP LIVE Matches Live Cricket Streaming
    Ads
    File Sharing
    Earn with File Sharing
    Stats

    0

    Online

    3.0k

    Users

    2.8k

    Topics

    8.5k

    Posts
    Popular Tags
    solution
    1235
    discussion
    1195
    fall 2019
    813
    assignment 1
    428
    assignment 2
    294
    spring 2020
    265
    gdb 1
    238
    assignment 3
    79
    Trending
    • PM. IMRAN KHAN
      Zaeem ChZ
      Zaeem Ch
      4
      3
      4.5k

    • Are the vaccines halal or not?
      undefined
      4
      1
      4.0k

    • All Subjects MidTerm and Final Term Solved Paper Links Attached Please check moaaz past papers
      zaasmiZ
      zaasmi
      3
      26
      77.1k

    • CS614 GDB Solution and Discussion
      M
      moaaz
      3
      3
      8.3k

    • How can I receive Reputation earning from Cyberian? 100% Discount on Fee
      Y
      ygytyh
      3
      28
      25.0k
    Online User
    | |
    Copyright © 2010-26 RUP Technologies LLC. USA | Contributors | Privacy | Terms
    • Login

    • Don't have an account? Register

    • Login or register to search.
    • First post
      Last post
    0
    • Categories
    • Recent
    • Tags
    • Popular
    • Pro Blog
    • Users
    • Groups
    • Unsolved
    • Solved